Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

کمراٹ اور جہاز بانڈہ کا سفر ذیشان ریاض کیساتھ۔

تحریر و تصاویر: ذیشان ریاض

پچھلے سال میں نے تن و تنہا لاہور سے کمراٹ ویلی جانے اور اِس وادی کا سحر انگیز حسن دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ لاہور سے وادی کمراٹ پہنچا، دو دن وادی کمراٹ میں گزارنے کے بعد میں نے تھل گاؤں سے اوپر کی جانب ایک چھپے ہوئے جنت نظیر کے ٹکرے جاز بانڈہ کی طرف رخ کیا۔کمراٹ ویلی کے بارے میں پچھلی تحریروں میں کافی بات ہوچکی، اس بار کچھ ذکر کرتا ہوں جاز بانڈہ کی اور اپنے ذاتی تجربے کی۔
جاز بانڈہ جانے کے لیے آپ کو مردان سے کوہستان کے آخری گاؤں تھل آنا ہوگا۔۔۔
اسکے بعد کوئی 4X4 جیپ کروا کے جھنڈری تک جانا ہوگا۔۔۔جھنڈری تک جانے میں پونا گھنٹا تقریباً لگ جاتا ہے۔ میں چونکہ اکیلا تھا، جیپ مجھے مہنگی پڑنی تھی میں نے ایک بائیک والے سے بات کی کہ مجھے ڈراپ بھی کرنا ہے اور جب کال کروں گا مجھے پک بھی کرنا ہے، بائیک والے نے 1500 میں ڈیل ڈن کی، اور کچھ دیر بعد کہا کہ تم اپنا آئی ڈی کارڈ کی کاپی مجھے دے دو، تم میری بائیک ہی لے جاؤ۔۔
میری خوشی کی انتہاء نہ رہی کہ اچھا خاصا ایڈوینچر کا موقع مل گیا، خیر خوشی خوشی بائیک لی تھل سے دو تین کلو میٹر تک کا فاصلہ صاف تگا مگر اسکے بعد شدید خراب سڑک، اور دشورا قسم کی چڑھائی اور ساتھ میں خستہ حال چائنہ کی CD 70۔ کچھ دیر بعد مجھے سمجھ آگیا کہ یہ ایڈوینچر میرے گلے پڑ گیا ہے۔خیر بڑی مشکلوں سے رک رک کے، بائیک سے اتر اتر کے میں جھنڈری تک پہنچ گیا۔۔وہاں سے آگے جب سامنے چڑھائی دیکھی تو سمجھ گیا کہ یہاں تو 150 CC بائیک ہی جا سکتی ہے، خیر بائیک وہی کسی کے گھر کھڑی کی، انکو 200 روپے دیے اور پیدل اوپر کی جانب چل پڑا۔۔۔ مجھے لگا یہ چڑھائی چڑھ کے دو ڈھائی گھنٹے تک جاز بانڈہ آجائے گا۔۔۔
انتہائی مشکل چڑھائی چڑھنے کے بعد میں ایک پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا جس کا نام ہے ٹکی، ٹکی پر ایک چھوٹا سا ہوٹل ہے لکڑی کا بنا ہوا جس میں تین کمرے ہیں اور چھوٹا سا کچن، اور باتھ روم کا کوئی چکر نہیں، ہوٹل والے سے پوچھا یہ جاز بانڈہ کہاں ہے؟ اس نے کہا یہاں سے پیدل پیدل 7 گھنٹے دور ہے جاز بانڈہ۔۔۔
یہ سن کر حالت غیر ہوگئی۔۔۔خیر اسی ہوٹل میں رکنے کا اور ریسٹ کرنے کا فیصلہ کیا، کہ صبح یہاں سے جاز بانڈہ کی طرف نکلوں گا۔۔۔
اگلے دن صبح صبح سات بجے کے قریب ناشتہ کرکے نکلا۔۔۔پیدل پیدل جنگل میں سے گزرتے، وادیوں سے گزرتے، کھلے میدان سے گزرتے دوپہر ایک بجے کے قریب جاز بانڈہ پہنچا، مکمل تھک چکا تھا۔۔۔
مگر جاز بانڈہ پہنچ کر وہاں کر نظارہ، وہاں کا موسم دیکھ کر میں سکتے میں آگیا۔۔۔
وہ دن جاز بانڈہ کو گھوما، پھرا دیکھا، اگلے دن کٹورا جھیل جانے کے لیے گھوڑے والے سے بات کی، کیونکہ وہ سفر بھی پانچ گھنٹے کا تھا اور میرا پھر سے چلنے کا موڈ نہیں تھا۔۔
خیر دو ڈھائی گھنٹے گھوڑے پر سفر کے بعد گھوڑے والا ایک جگہ رک گیا اور بولا اس سے آگے گھوڑا نہیں جاسکتا، اب پیدل جانا ہوگا۔۔۔پیدل کم سے کم ڈیرھ گھنٹا چلنے کے بعد جا کر یہ جادوئی کٹورا جھیل نظر آئی۔۔کوشش کریں جاز بانڈہ فیملی کے ساتھ نہ جائیں، ایک تو سفر بہت زیادہ دوسرا واش روم کا ہونا ایک سنگین مسلہ ہے۔ اور تیسرا اتنی دور پیدل آنے کے بعد عجیب سے خیالات آپ کے ذہن کو گھیرنا شروع ہوجاتے ہیں۔۔۔ کیونکہ جاز بانڈہ اتنا Remote ایریا ہے کہ آپکو کوئی بائیک یا جیپ دیکھنے کے لیے کم سے کم آٹھ گھنٹے سفر کرنا ہوگا۔۔۔
پھر لوگوں کا انتہائی قلیل تعداد میں ہونا، موسم کا اچانک سے تبدیل ہوجانا، یہ سارے فیکٹرز مل کر اس جگہ کو فیملی کے لیے سوٹ ایبل قرار نہیں دیتے۔۔۔یہ میرا Perspective ہے، آپ اس سے بالکل اختلاف کر سکتے ہیں۔۔
پچھلے سال اس Solo یاترا کی چند تصاویر آپ کے ساتھ شیئر کررہا ہوں۔۔۔ انجوائے کریں۔

Tags: , , , , , ,