—-احتیاط — احتیاط — احتیاط —–

رمضان کے اختتام کے ساتھ ھی سیاحت کا سیزن زور و شور سے جاری ھے – جتنی مجھے سیاحت کے فروغ کی خوشی ھے اتنا ھی آئے روز کے حادثات کا سن کر دکھ ھوتا ھے۔ اللہ رحم کرے اس بار تو کچھ زیادہ ھی خبریں مل رھی ھیں۔ مسلمان کو اس بات کا یقین ھے کہ موت کا اک دن معین ھے مگر اس کے ساتھ ساتھ ھم لاپرواہی کا کچھ ایسا مظاہرہ کرتے ھیں کہ وہ بعد میں پچھتاوا بن جاتا ھے۔ کچھ حادثے ایسے ھوتے ھیں جن کو قسمت کا لکھا کہا جا سکتا ھے اور اس میں ھمارا کوئی اختیار نہیں ھوتا مگر بہت سے ایسے واقعات رونما ھوتے ھیں جن میں اپنے سیاح بہن بھائیوں کی جان چلے جانے کے دکھ کے ساتھ ساتھ ان کی بےوقوفی اور لاپرواہی پر غصہ آتا ھے۔ میں چند ایک کو یہاں شئیر کرنا چاہتا ھوں اور گزارش کرتا ھوں کہ ضروری نہیں کہ خود غلطی کر کے ھی سیکھا جائے۔

1۔ تیز رفتاری – کبھی کسی کو پہاڑوں میں تیز رفتاری پر کوئی ایوارڈ ملا ھو تو مجھے بھی بتائیں ۔ اگر آپ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ھیں تو آپ کو صرف اپنی شوخی کے چکر میں ساتھ سفر کرتے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کا حق نہیں پہنچتا ۔

2- برف کے غار – اگر آپ ناران کی مثال لیں تو راستے میں آپکو بہت سے مقامات پر برف کے بنے غار نظر آتے ھیں جن میں لوگ کافی اندر تک جا کر مزے لیتے ھیں۔ میں کسی بھی قسم کے لطف اندوز کام میں کسی کو ڈرانے کے حق میں نہیں مگر اس معاملے میں احتیاط صرف یہ ھے کہ آپ بارش کے دوران یا پھر اگست کے مہینے میں اس کام سے پرہیز کریں تو اچھا ھو گا کیونکہ اس وقت یہ کافی غیر مستحکم ھو چکے ھوتے ھیں اور انکے گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ھے۔

3۔ نالوں اور دریاؤں سے مناسب دوری بے حد ضروری ھے۔ تیز رفتار پانی اگر آپکے گھٹنے کی سطح تک پہنچ گیا تو آپکے قدم اکھاڑ سکتا ھے اور اسکے بعد سنبھلنے کا موقع ملنا مشکل ھے۔

4۔ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ حادثاتی اموات خطرناک سیلفی لینے کے چکر میں ھو رھی ھیں اور یہ فیصلہ کوئی مشکل نہیں کہ کیا ایک سیلفی آپکی زندگی سے بڑھ کر ھے ۔

5۔ ٹریکنگ کے معاملے میں زیادہ تجربہ کار تو نہیں مگر ذاتی طور پر بھگتنے کی بنا پر صرف 2 باتوں کا ذکر کرتا ھوں اس میں سے احتیاط کا پہلو آپکو خود ھی آشکار ھو جائے گا۔

پہلا تجربہ ۔ ایک بار پہاڑ کی ڈھلوان سے تیز قدمی سے اترنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ تیز قدمی میری خواہش و رضا کے بغیر ھی دوڑ میں بدل گئی اور اس وقت کچھ دیر کیلئے یوسین بولٹ والی feelings تو آئی مگر جب رکنے کا خیال آیا تو “کیسے” والا سوال سامنے آ گیا ۔ خوش قسمتی سے گہری کھائی سے پہلے کچھ ہموار جگہ مل گئی جس پر سینے کے بل سلائڈ کر کے گول کرنے کے بعد خوشی منانے والے فٹبالر کا سا احساس ملا۔ مگر شرٹ اور سینہ چھلنی کروا کر پتہ چلا کہ صرف گول کرنے میں نہیں اسطرح خوشی منانے میں بھی مہارت درکار ھے۔

دوسرے تجربے میں نقصان تو کوئی نہیں ھوا مگر اسکی خطرناکی کا احساس بہرحال ہمیں وہاں موجود مقامی لوگوں کے سمجھانے سے ھو گیا تھا ۔ یہ تجربہ بھی اترائی پر پیش آیا جب جلدی کے چکر میں ایک خشک ھو چکےعمودی نالے کے راستے اترے۔ دو لوگ تو اتر گئے تیسرے کو مقامی بندے نے آ کر روک لیا اور وہ سبق دیا جو عمومی طور پر تو شاید سب کو معلوم ھو مگر کچھ ہمارے جیسے دوستوں کو یہ بات کام آ سکتی ھے۔ نالہ یا آبشار جس راستے سے اترتے ھیں وہاں پتھروں کی پکڑ کمزور ھو جاتی ھے اور وہ آسانی سے لڑھک سکتے ھیں اور ان کے پھسلنے سے جہاں آپکو چوٹ لگ سکتی ھے وہاں زیادہ خطرناک بات یہ ھے کہ لڑھکتے ھوئے یہ پتھر آپکے آگے جاتے ہوئے ساتھی کے لیے انتہائی مہلک ثابت ھو سکتے ہیں ۔

اسکے علاوہ بھی ایسی غیر ضروری حرکات سے بچنے کی کوشش کریں جو آپکے خوشی حاصل کرنے کے لیے کیے گئے سفر کو دکھ اور پچھتاوے میں بدل دے۔

ممبران سے گزارش ھے کہ وہ کمنٹس میں ان احتیاطی تدابیر کا ذکر بھی کر دیں جن کا ذکر اس پوسٹ میں نہیں آیا ۔

اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔ آمین

Ratti Gali – Neelum Valley AJK

Writing Credits: Sajjad Afsar @fb

August.- 2015

Tags: , , , , ,