کہیں آپ لاعلم تو نہیں… 

اگر آپ ناران، بابوسر ٹاپ، سکردو، گلگت، خنجراب، کمراٹ، سوات یا چترال کے دو چار سیاحتی مقامات دیکھنے کے بعد اپنے آپ کو بہت بڑا سیاح سمجھنے لگے ہیں تو شاید یہ آپ کی معصومیت ہے…

جناب! آپ پاکستان میں ہیں اور یہ دنیا کا خوبصورت ترین خطہ ہے، ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم کے سلسلے کا ملاپ جس خطے میں ہوا ہے وہ ان سلسلوں کا سب سے دلچسپ حصہ سمجھا جاتا ہے.

آپ ناران کئی بار جا چکے ہیں اور ہر بار وہاں کسی اچھے سے ہوٹل میں قیام کر کے واپس آجاتے ہیں، زرا زیادہ شوق ہوا تو سیف الملوک اور لالہ زار دیکھ لیا، لولوسر جھیل اور بابوسر پاس کو دیکھنے کے بعد تو آپ خود کو اور ہی دنیا کی مخلوق سمجھنے لگے ہیں… 

آپ اچھی سی گاڑی میں بیٹھ کر خنجراب کو ہاتھ لگا آئے ہیں خاندان میں مشہور ہوگیا کہ ‘لڑکا “ایڈوینچرس” ہے، چین کے باڈر سے ہو آیا ہے.’

معذرت کے ساتھ لیکن مجھے افسوس ہے آپ کے معیار پر… 

آپ اسے اپنی خوش قسمتی کہیے یا بد قسمتی…

کہ آپ ایسے خطے میں پیدا ہو گئے ہیں جہاں دنیا کی بیس میں سے آٹھ بلند ترین چوٹیاں موجود ہیں… 

جہاں ایک ہزار سے زائد ایسے مقامات ہیں جس کی سیاحت کسی صاحبِ ذوق انسان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہو سکتی ہے… 

آپ K2 اور راکاپوشی کو تو چھوڑ دیں، صرف نانگا پربت کو سر کرنے کی چاہ میں سو سے زائد غیر ملکی سیاح جان فدا کر چکے ہیں… 

اگر آپ کی پہنچ ناران تک ہی ہے تو جان لیں کے صرف کاغان ویلی میں بیس سے ذائد ایسی جھیلیں موجود ہیں جو فطرت کے ہوشربا طلسم کا شاہکار ہیں… 

آبشاریں اور ندی نالے ایک طرف،

جنگل کی سنسناہٹ اور پہاڑوں کی چوٹیاں برطرف…

تب بھی نیلم ویلی میں کم و بیش 100 سے زائد ایسے مقامات ہیں جہاں کیمپنگ کرنا اور اماوَس کی راتوں میں تاروں اور کہکشاؤں کے حسین اجتماع کی زیارت کرنا “مقصدِ سفر” بن سکتا ہے… 

چترال کی شیریں خوبانیاں، برلب دریا جھکی جھکی سیب کی ٹہنیاں اور اخروٹ کے ہرے بھرے باغات سے زرا پرے “بروغل وادی” کرشماتی حسن سے ملامال ہے… 

نیلم سے استور کی پہاڑی پگڈنڈی ہو،

شاردہ سے جل کھنڈ کا جیپ راستہ ہو، 

نوری ٹاپ، فیری میڈوز، جہاز بانڈہ ہو یا واخان کی پٹی پر بنے چھوٹے چھوٹے گاؤں یا پھر سکردو سے اُس طرف کنکورڈیا کا برف زار… 

بات صرف ہمت، عزم اور حوصلے کی ہے…

چار پہیوں سے اتر کر دو پہیوں پر آنے کی ہے

یا پھر اپنے قدموں پر بھروسہ کرنے کی ہے… 

قدرت نے ہر خوبصورت شے کو مشقَّتوں میں چھپا رکھا ہے… 

شاہراہوں پر تو کچلے مسلے چھلکے ہے نظر آتے ہیں…

کبھی پگڈنڈیوں اور پرپیچ راستوں پر چل کر دیکھیں …

قدرت وہاں ہے، فطرت وہاں ہے، زندگی وہاں ہے

جنہیں منزلوں کی طلب نہ ہو

وہی ہمسفر میرے ساتھ ہو

#پیارا_پاکستان

#SeeMyPakistan

(سید مستقیم معین)

Tags: , , , ,