پاکستانی میڈیا  حوالدارمیڈیا

نیوز روم میں کام کرنے والے ہر ملازم کو شفٹ کے آخر میں کو روزانہ اپنی کا رکردگی کا حساب دینا ہوتا ہے

پاکستان کے ایک بڑے شہر کی ایک کثیر المنزلہ عمارت کی ایک منزل پر قطار سے میزیں لگی ہوئی ہیں جن کے دونوں طرف درجنوں ملازم کام میں مصروف ہیں۔

بڑے سے ہال میں اتنا شور ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ ہر کوئی جلدی میں ہے۔

ہونے کو یہ مچھلی بازار ہو سکتا ہے، یا پھر جوتے بنانے کی کوئی فیکٹری۔ لیکن ہے یہ پاکستان کے ایک بڑے چینل کا بڑا نیوز روم ہے۔

پاکستانی میڈیا ہاؤسز ‘سیلف سنسر شپ’ کا شکار

یہاں کسی کو کچھ سوچنے، سمجھنے یا پڑھنے کا وقت نہیں۔ یہاں صرف دباؤ ہے کہ ڈیڈلائن سے پہلے خبریں جمع کراتے جاؤ۔ شِفٹ کے آخر میں ہر ملازم کو روزانہ اپنی کارکردگی کا حساب دینا ہوتا ہے۔ آج آپ نے کتنی خبریں ‘بریک’ کیں؟ کتنے پیکیج فائل کیے؟ کتنے بیپر دیے؟

یعنی سارا زور تعداد پر، نہ کہ کام کے معیار پر!

خبر جو ‘بریک’ کی کیا وہ اس لائق بھی تھی یا پھر خبر کی ٹانگ توڑ دی؟ نوے سیکنڈ کی جو پیکیج رپورٹ فائل کی کہیں اس کے تعارفی جملے وہی تو نہیں تھے جنھیں مختلف انداز سے دہرا کر کھینچ تان کر پیکیج کی صورت دے دی؟

جو بیپر دیا اس میں اونچی آواز میں بغیر سانس لیے بھاشن ہی دیتے رہے یا تمیز سے اختصار کے ساتھ کوئی بات سمجھا بھی سکے؟

ایسا نہیں کہ بڑے بڑے چینل چلانے والے لوگ نااہل یا بےوقوف ہیں۔ انھیں اچھی طرح پتہ ہے کہ کاروبار کیسے چلانا ہے لیکن 24 گھنٹے کے نیوز چینل کا پیٹ بھرنا آسان کام نہیں۔

جب خبریں نہ ہوں تو گھڑنی پڑتی ہیں۔ ایسے میں صحافتی معیار بنانا، یا اسے قائم رکھنا ایک غیرضروری لگژری معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے مجھے نیوز روم میں کام کرنے والے ملازمین سے کوئی شکایت نہیں بلکہ ان سے ہمدردی ہی کی جا سکتی ہے۔

نیوز روم میں کام کرنے والے ملازمین سے ہمدردی ہی کی جا سکتی ہے

خرابی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے اکثر چینلوں کے کسی پروگرام کی کوئی ایڈیٹوریل پالیسی نہیں ہوتی۔ ٹی وی ٹاک شوز چہروں اور شخصیات کے گرد گھومتے ہیں۔ اینکر اپنی ذات میں انجمن ہوتے ہیں۔ بڑے اینکروں کی ذاتی رائے، پسند ناپسند ہی ان کی پالیسی ہوتی ہے، جو وقت اور حالات کے ساتھ ‘ایڈجسٹ’ ہوتی رہتی ہے۔

ان کے پروگرام کہنے کو تو عام ناظرین کے لیے ہیں لیکن انھیں اصل پرواہ صرف مقتدر حلقوں کی کرنی پڑتی ہے: فوج کیا سوچے گی؟ مولوی حضرات کیا کہیں گے؟ مالکان کے مفادات کو کوئی ٹھیس تو نہیں پہنچے گی؟

تجربہ کار اینکرز کے لیے یہ ان کی بقا کا سوال ہوتا ہے۔ ہمارا میڈیا ویسے تو مادر پدر آزاد سمجھا جاتا ہے لیکن بعض معاملات میں بےاحتیاطی خطرناک ہو سکتی ہے۔ اس پر اگر کہیں کسی کو کوئی کنفیوژن تھی تو صحافی حامد میر پر حملے کے بعد ختم ہو گئی۔

سب پر واضح ہو گیا کہ اگر ملک کے سب سے بڑے چینل کے معروف اینکر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے تو یہاں کوئی محفوظ نہیں۔ اس واقعے کے بعد میڈیا نے جس انداز کی سیلف سینسر شپ اپنائی وہ پہلے نہیں دیکھی گئی۔

اینکرز کی دوسری کھیپ ایسی ہے جو اینکر کم اور مبلغ زیادہ نظر آتے ہیں، جنہیں ٹاکنگ پوائنٹس اور مہمان ‘فیڈ’ کیے جاتے ہیں: آج یہ لائن لینی ہے۔ ‘را’ کا راگ الاپنا ہے۔ قوم کو حب الوطنی کے جذبے سے سرشار کرنا ہے وغیرہ وغیرہ۔

ایسی فرمائشیں ادارے کے اندر سے بھی آتی ہیں اور باہر سے بھی، اور فخریہ طور پر ان کا حکم بجا لایا جاتا ہے۔

24 گھنٹے کے نیوز چینل کا پیٹ بھرنا آسان کام نہیں۔ ایسے میں صحافتی معیار بنانا، یا اسے قائم رکھنا ایک غیرضروری لگژری معلوم ہوتی ہے

ایسے اینکروں کی ‘سکیورٹی کلیئرنس’ ہوتی ہے۔ انھیں طاقت کے ایوانوں تک رسائی مہیا کی جاتی ہے۔ انہیں ٹینکوں اور جہازوں پر گھمایا جاتا ہے، ان کے ذریعے لیکس پلانٹ کی جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ ملک کے بہترین مفاد میں ہوتا ہے۔

ناقدین اینکرز کی اس کھیپ کو ‘حوالدار میڈیا’ پکارتے ہیں۔ ان کا نام جتنا بڑا ہوتا ہے، کام اتنا ہی جانبدارانہ، اسی لیے کوئی ذی شعور شخص ان کے ارشادات کو سنجیدگی سے نہیں لیتا۔

لیکن پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ اسی پاکستان میں ایسے صحافی اور اینکر ہیں جو آج بھی تمام تر مشکلات کے باوجود ہمت کے ساتھ ہمارے دور کے مشکل سوالات اٹھانے سے نہیں کتراتے۔ لیکن افسوس کہ وہ اکثر چھوٹے چینلز تک محدود نظر آتے ہیں۔

نیوز چینلز میں کام کرنے والے دوست مانتے ہیں کہ وہاں صحافت کم اور کلرکی زیادہ ہوتی ہے۔ ایڈیٹوریل کنٹرول اوپر والے سو فیصد اپنی مٹھی میں رکھتے ہیں۔ انتظامی ڈھانچے میں لوگوں کے عہدے اور تنخواہ جتنی بڑھتی جاتی ہے، ادارتی اختیارات اتنے ہی کم ہوتے جاتے ہیں۔ تخلیقی کام کی گنجائش نہ صرف کم ہوتی ہے بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

ٹیکنالوجی تیزی سے بدل رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں نوجوانوں میں موبائل فون پر خبریں سننے، پڑھنے اور دیکھنے کا رجحان بڑھا ہے۔ وہ صرف سننا نہیں کچھ کہنا بھی چاہتے ہیں۔ اپنی آواز دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں، جس کے لیے وہ فیس بک اور ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح آبادی کا آدھے سے زیادہ حصہ یعنی خواتین ویسے ہی بظاہر نیوز چینلوں سے بیزار رہتی ہیں۔

یہ ایسے ہی چلتا رہا تو پھر پرائم ٹائم نیوز شوز دیکھنے کے لیے بچے گا کون؟

آج نہیں تو کل میڈیا انڈسٹری کو اپنے طور طریقے درست کرنے ہوں گے۔ انڈسٹری میں سدھار لانا ہوگا۔ ورنہ کروڑوں،اربوں کی اس انڈسٹری کا زوال وقت سے پہلے بھی آسکتا ہے۔

جب آپ کے نیوز چینل اور آپ کے پروگرام دیکھنے کے لائق ہی نہیں رہیں گے تو لوگ کیوں ٹی وی کے آگے ٹکٹکی باندھے اپنا وقت ضائع کریں گے؟