کراچی کے کوڑے کے ڈھیر سیاست کی نظر: ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی میں سرد جنگ

کراچی میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں سے چکن گونیا، ڈینگی اور ملیریا کی وباء عام ہوتی جارہی ہیں مگر پیپلز پارٹی کی صوبائی اور ایم کیو ایم کی شہری حکومتوں کے درمیان کچرے کے معاملے پر سرد جنگ جاری ہے۔

کراچی کے مئیر وسیم اختر نے کہا کہ شہریوں کو آج جس صورت حال کا سامنا ہے، اس کی سب سے زیادہ ذمہ داری وزیر اعلیٰ سندھ پر عائد ہوتی ہے کیوں کہ پورے ملک میں یہی کہا جا رہا ہے کہ سندھ میں سب سے زیادہ بیڈ گورننس ہے، ’’سندھ حکومت کچھ بھی نہیں کر رہی اور اعلیٰ عدلیہ ہر معاملے پر سندھ حکومت کو ہدایات جاری رہی ہے۔ کچرا اٹھانے کا مجھے تو اختیار ہی حاصل نہیں ہے۔ لہذا اس حوالے سے سوال کا جواب وزیر اعلیٰ سندھ ہی دے سکتے ہیں کیوں کہ دو اضلاع میں اس حوالے سے ٹھیکہ بھی وزیر اعلیٰ سندھ نے دیا ہے۔ 2013ء میں سندھ حکومت نے سالڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ بھی قائم کیا تھا۔ اس پر خطیر رقم خرچ کی گئی مگر اس کا بھی کوئی فائدہ عوام کو نہیں پہنچا۔‘‘

کراچی کی صورت حال یہ ہے کہ رواں برس کے چار ماہ سے بھی کم عرصے میں صرف چکن گونیا کے ڈھائی سو سے بھی زائد مریض مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں میں پہنچ چکے ہیں۔
اور یہ مسئلہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ٹیم کراچی پہنچ گئی ہے۔ یہ ٹیم متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے بیماری کے انسداد کے لئے اقدامات تجویز کرے گی۔
سندھ حکومت کے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر محمد توقیر کا کہنا ہے کہ جب تک کراچی سے کوڑے کے ڈھیر صاف نہیں کیے جاتے، بیماریوں کا مسئلہ برقرار رہے گا۔ کراچی میں پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھا جانے والے ملیر کے مختلف علاقوں کھوکھرا پار، سعود آباد سمیت شہر کے دیگر کئی گنجان آباد علاقے بھی چکن گونیا کی لپیٹ میں ہیں اور اس کی صرف ایک وجہ ہے کہ شہر میں صفائی کے انتظامات نامناسب ہیں۔

ہسپتالوں کے اطراف میں بھی کچرا کئی کئی ہفتے پڑا رہتا ہے جبکہ اسپتالوں کے اندر پیدا ہونے والا طبی فضلا بھی نہیں اٹھایا جا رہا۔ اب تک سب سے کم کیسز ضلع وسطی میں سامنے آئے ہیں کیونکہ ضلعی انتظامیہ وہاں سےکچرا اٹھانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے اور اسے کسی حد تک کامیابی بھی حاصل ہو رہی ہے۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق یہ صورت حال ایک دن میں پیدا نہیں ہوئی جبکہ 2010ء تک صورت حال قدرے بہتر تھی۔
کراچی کے بلدیاتی نمائندوں نے سندھ حکومت کے خواہش کے برخلاف اختیارات کے حصول کا مطالبہ کر رکھا ہے اور اب ایم کیو ایم نے اس مقصد کے لئے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم صرف کراچی نہیں بلکہ حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ سمیت دیگر ضلع کے بلدیاتی نمائندوں کو بھی اختیارات اور حقوق دلوانے کے لیے کوشاں ہے۔
بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات کا معاملہ ایسا ہے کہ ایم کیو ایم کے بدترین مخالفین کی رائے بھی میئر وسیم اختر کے حق میں ہے۔ مہاجر قومی موومنٹ کے آفاق احمد اور پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفٰی کمال کا بھی کہنا ہے کہ بلدیاتی امور صوبائی حکومت خود نہیں چلا سکتی۔
دوسری جانب ناقدین اس صورت حال کا ذمہ دار ایم کیو ایم کو بھی قرار دیتے ہیں کیونکہ جب قائم علی شاہ کے دور میں پیپلز پارٹی نے مشرف دور کے بلدیاتی قانون کو تبدیل کیا تھا تو اس وقت ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کے مجوزہ قانون کی بھرپور حمایت کی تھی۔

Tags: , , , ,