بھارت نے کشمیر پرترکی کی طرف سے کثیرالجہتی مذاکرات کی تجویز مسترد کردی

بھارت نے ترک صدر رجب طیب اردوگان کی کشمیر پر ثالثی کی تجویز مسترد کرتے ہوئے اس کو ایک بار پھر زور دے کر اپنا اٹوٹ انگ قرار دیا. بھارت نے اس کو صرف دو طرفہ مزاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے.
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کشمیر کی تحریک آزادی کو سرحدی دراندازی اور دہشتگردی کا نتیجہ قرار دیا. ترجمان نے مزید کہا کہ اس مسئلے کو شملہ معاہدے اور اعلامیہ لاہور کی روشنی میں ہی پرامن باہمی مزاکرات کے ذریعے ہی حل کرسکتے ہیں.
ترجمان کے مطابق ترک صدر اور بھارتی وزیراعظم نے باہمی بات چیت میں دہشت گردی کی ہر صورت اور کسی بھی جگہ میں بھی ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ایک دوسرے سے تعاون پر اتفاق کیا گیا.

دورے کی شروعات میں ترک صدر نے بھارت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا، کہ وہ پاکستان کے ساتھ جلد از جلد مزاکرات شروع کرکے مسئلہ کشمیر کو حل کرلے. باہمی بات چیت میں فتح اللہ گولان تنظیم کی بھارت میں موجودگی کا ذکر بھی کیا گیا. اور بھارت نے یقین دلایا کہ کوئی بھی تنظیم ملک کی قوانین کے خلاف بھارت میں کام نہیں کر سکتا.

بھارت کیلئے ان مزاکرات میں اہم نکتہ ترکی سے نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کیلئے تعاون حاصل کرنا تھا. ترکی نےاس سلسلے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی.

Tags: , , , , , , , , , , , , , ,