پشاور: بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری والدین کو منانے کی کوشش


رواں برس کے دوران پاکستان سے اب تک 18 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جس میں خیبر پختونخوا سے آٹھ، سندھ سے سات، فاٹا سے دو اور بلوچستان سے ایک کیس سامنے آیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں چند روز پہلے شروع کی گئی تین روزہ مہم میں 56 لاکھ سے زائد بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے جانے کا ہدف رکھا گیا تھا۔
حکام کے مطابق اس مہم میں 98 فیصد بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے جا چکے ہیں اور جو باقی دو فیصد بچے رہ گئے ہیں ان کے لیے یہ مہم اب بھی جاری ہے۔
خیبر پختونخوا میں ایک اندازے کے مطابق 8,336 بچوں کے والدین نے اپنے بچوں کو قطرے دینے سے انکار کر دیا ہے اور پشاور میں یہ تعداد 140 تک بتائی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر پشاور ریاض محسود نے منگل کو پشاور کے علاقے شاہین مسلم ٹاؤن میں ان انکاری والدین سے ملاقات کی اور انھیں اپنے بچوں کو یہ قطرے پلانے کے لیے راضی کیا ہے ۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق ایسے والدین کے پاس اپنے بچوں کو اس مرض سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کرنے کی کوئی ایسی ٹھوس وجہ نہیں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایک دن میں 89 بچوں کے والدین کو راضی کر کے انسداد پولیو کے قطرے پلائے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
ریاض محسود نے کہا کہ شاہین مسلم ٹاؤن سے پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی اور اسی علاقے کے والدین اپنے بچوں کو یہ قطرے پلانے سے انکار کر رہے تھے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا کے بیشتر ممالک میں پولیو وائرس ختم کیا جا چکا ہے جب کہ پاکستان میں یہ وائرس اب بھی موجود ہے اور خدشہ ہے کہ کہیں یہ وائرس دیگر ممالک میں دوبارہ ظاہر نہ ہو جائے۔