سعودی شہزادے کا سر قلم


سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ایک شہزادے کو قتل کے جرم میں سزائے موت دے دی گئی ہے۔

شہزادے ترکی بن سعود الکبیر کو ریاض میں یہ سزا دی گئی تاہم یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ انھیں سزائے موت کس طریقے سے دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق مذکورہ واقعہ تین سال قبل پیش آیا تھا۔

سعودی عرب میں سزائے موت کے زیادہ تر مجرموں کا سرقلم کیا جاتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس سال سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے یہ 134 ویں شخص تھے۔

تاہم شاہی خاندان کے افراد کو سزا دیا جانا ایک غیر معمولی بات ہے۔

وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ شہزادے ترکی بن سعود الکبیر نے ایک شخص کو ہلاک کرنے کے جرم کا اعتراف کیا تھا۔

وزارتِ داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت میں شامل ہر شخص ملک میں سکیورٹی اور انصاف قائم رکھنا چاہتا ہے۔

مقامی اخبار عربیہ کا کہنا ہے کہ مقتول کے رشتے داروں نے اس واقعے کے بعد دیت کی رقم قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

سعودی تاریخ میں شاہی خاندان کے کسی رکن کو سزائے موت دیے جانے کا سب سے اہم واقعہ شہزادے فیصل بن مسعید کو اپنے تایہ بادشاہ فیصل بن سعود کو 1975 میں قتل کرنے کے بعد سزائے موت کا ہے۔

سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے زیادہ تر افراد منشیات کے کاروبار سے منسلک یا پھر قتل کے مجرم ہوتے ہیں۔ تاہم اس سال جنوری میں ایک ہی دن میں دہشتگردی کے الزام میں 50 افراد کو سزائے موت سنائی گئی تھی جن میں معروف شیعہ عالم نمر النمر بھی شامل تھے

Tags: ,