اگلے دس برسوں میں پاکستان قحط سالی کا شکار ہوسکتا ہے: رپورٹ

پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسوریسز نے خبردار کیا ہے کہ ملک کو پانی کی قلت کا سامنا ہے اور اگر صورت حال کو بہتر کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو سن دو ہزار پچیس تک قحط جیسی صورت حال یا پانی کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

کونسل کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ ملک کو پانی کی قلت کا سامنا ہے اور اگر بر وقت اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ دس سال کے بعد ملک میں پانی کی شدید قلت ہونے کا خطرہ ہے اور بات قحط سالی تک بھی جاسکتی ہے۔ ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے اس اعلیٰ افسر نے کہا،’’پاکستان کے قیام کے بعد ابتدائی برسوں میں ملک میں پانی کی فراہمی 5600 کیوبک میڑ فی کس سالانہ تھی، جو اب صرف ایک اندازے کے مطابق ایک ہزار کیوبک میٹر فی کس سالانہ ہے اور یہ بھی اُس مردم شماری کے مطابق ہے۔ جو کئی سالوں پہلے کی گئی تھی۔‘‘


آبی امور کے ماہر عرفان چوہدری بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان میں پانی کا ایک بہت بڑا بحران آنے والا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا،’’وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پانی ذخیرہ کرنے کی ہماری صلاحیت کم ہوتی جارہی ہے۔ ہم نے گزشتہ چار دہائیوں میں پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی قابل ذکر منصوبہ نہیں بنایا۔ ڈیموں اور بیراجوں کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جارہی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اُس کی تعمیر کے وقت دس ملین ایکڑ فٹ تھی تو وہ اب چھ ملین فٹ ہوگئی ہے اورِ اس کمی کی ایک وجہ جنگلات کے سکڑنے کا عمل بھی ہے۔ درختوں کے کٹنے سے مٹی کے جمع ہونے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ درخت نہ ہونے کی وجہ سے کیونکہ پانی زمین میں جذب نہیں ہو پاتا تو مٹی، کنکر، پتھر اور ریت آکر ڈیموں اور بیراجوں کے ڈھانچے کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس سے ان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔‘‘

Tags: , , , ,