ماریہ شراپوا کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت: ھر قسم کے ٹینس سے معطل

لاس اینجلس: روس سے تعلق رکھنے والی دنیا کی مشہور اور امیر ترین خاتون اسپورٹس اسٹار ماریہ شراپووا نے ممنوع دوا کے استعمال کے باعث آسٹریلین اوپن کے دوران ’ڈرگ ٹیسٹ‘ میں ناکامی کا اعتراف کرلیا۔

انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن (آئی ٹی ایف) نے 5 بار گرینڈ سِلیم کی چیمپئن 28 سالہ ماریہ شراپووا کے اعتراف کے بعد انہیں 12 مارچ سے عبوری طور پر معطل کردیا۔

واضح رہے کہ ماریہ شراپووا رواں ماہ کے دوران ساتویں ایتھلیٹ ہیں جن کا، ذیابیطس اور دیگر بیماریوں میں استعمال ہونے والی ممنوع دوا ’میلڈونیم‘ کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پر ماریہ شراپووا کو کم از کم ایک سال کی پابندی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) نے اس سال کے آغاز سے ’میلڈونیم‘ کو ممنوع ادوایات کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

امریکی شہر لاس اینجلس میں پریس کانفرنس کے دوران ماریہ شراپووا نے اس ممنوع دوا کے استعمال کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ پچھلے 10 سال سے وہ میلڈونیم کا استعمال کرتی رہی ہیں۔

انہوں نے اپنے مداحوں سے معافی مانگی اور امید ظاہر کی کہ ٹینس منتظمین ان کی غلطی کی وجوہات پر غور کریں گے اور انہیں کھیلنے کا ایک اور موقع دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ گذشتہ دس سالوں سے اپنے خاندانی معالج کی ہدایت پر اپنی بیماری اور خاندان میں ذیابیطس عام ہونے کی وجہ سے ’ملڈرونیٹ‘ نامی دوا استعمال کر رہی تھیں جو ’میلڈونیم‘ بھی کہلاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ’واڈا‘ کی فہرست میں گزشتہ دس سالوں سے میلڈونیم کے استعمال پر پابندی عائد نہیں تھی اور میں یہ قانونی طور پر استعمال کر رہی تھی، یہ پابندی رواں سال جنوری میں عائد کی گئی۔

ویمن ٹینس ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اسٹیو سائمن کا کہنا ہے کہ انھیں ماریہ شراپووا کے ڈرگ ٹیسٹ کی ناکامی پر بہت دکھ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ ماریہ شراپووا گذشتہ 11 سال سے سب سے زیادہ کمانے والی خاتون ایتھلیٹ ہیں۔

امریکی جریدرے ’فوربز‘ کے مطابق ماریا شراپووا نے 2015 میں تقریباً 3 کروڑ ڈالرز کمائے۔