فیڈر، کھلونے اور دودھ کے دانت

بارہ مئی 2015ء کو صبحِ صادق کا وقت تھا جب مچھ جیل میں صولت مرزا کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا۔ منیر نیازی نے کہا تھا ؎
صبحِ کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیرؔ
ریل کی سیٹی بجی اور دل لہو سے بھر گیا
ریل کی سیٹی رخصتی کی علامت ہے۔ کسی نے اگر بحری جہاز کا روانگی سے عین پہلے وسل سنا ہو تو اندازہ لگا سکتا ہے،کہ اس کی آواز میں کتنا درد، کتنی کسک اور کس قدر شدت کی اداسی ہوتی ہے۔ دل خون خون ہو جاتا ہے۔ کیا آپ نے ہوائی اڈوں پر بوڑھے والدین کو بلکتے سسکتے نہیں دیکھا جن کے بچے، پوتے اور نواسیاں سمندر پار جارہی ہوتی ہیں۔
صبحِ کاذب تھی یا صبحِ صادق، صولت مرزا دار پر کھنچ گیا اور اس ملک کی تاریخ کے ایک صفحے کو، کالے صفحے کو، لہو سے بھر گیا۔
تختۂ دار پر کھنچا جانے والا قیدی مرنے سے پہلے جھوٹ نہیں بول سکتا۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ بول سکتا ہے تو وہ موت کو مذاق سمجھتا ہے۔ صولت مرزا نے ایم کیو ایم کا وہ پہلو دکھایا جو تاریک تھا۔ ہولناک تھا اور تعفن سے بھرا تھا۔ قتل و غارت، لاشوں کا مسخ کیا جانا، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور نہ جانے کیا کیا۔ یہ انکشافات اس نے مئی سے پہلے کیے۔ پوری قوم نے سنے۔ پوری دنیا نے سنے۔ ٹھیک سات ماہ بعد کراچی میں لوکل باڈیز کے الیکشن ہوئے اور ایم کیو ایم منظر نامے پر اسی طرح چھا گئی جس طرح صولت مرزا کے سچے انکشافات سے پہلے چھایا کرتی تھی۔ کیوں؟ آخر کیوں؟ کیا ووٹ دینے والے لاکھوں لوگ ایم کیو ایم کا اصلی چہرہ نہیں دیکھ چکے تھے؟ پھر انہوں نے ایم کیو ایم کو کیوں ووٹ دیئے؟ یہ ہے وہ سوال جس کا جواب اِس ملک کے عوام کو ڈھونڈنا چاہیے۔ خاص کر اہلِ پنجاب کو، اس لیے کہ اہلِ پنجاب اپنی الگ دنیا میں مگن رہتے ہیں۔
اس سوال کا مختصر ترین جواب تو یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے کارکن بچے ہیں نہ فاترالعقل! کیا وہ شاہی سید کو ووٹ دیتے؟ کیا وہ سندھ کارڈ کھیلنے والوں کو منتخب کرتے؟ کیا وہ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی اُس پارٹی کو ووٹ دیتے جسے عاقبت نا اندیش تحریکِ انصاف نے اپنی آغوش میں لیا ہوا تھا؟ جو پارٹیاں بھوکے ننگے، بے روزگار عوام کے گلے میں نظریات اور عقاید کی دوا زبردستی انڈیلتی ہیں، ان کا انجام وہی ہوتا ہے جو اِن انتخابات میں ہوا، بالکل اسی طرح جیسے اس سے پہلے کے انتخابات میں ہوتا آیا ہے!
یہ صفحات گواہ ہیں کہ سب سے پہلے اِس کالم نگار نے لکھا اور ڈنکے کی چوٹ لکھا کہ ایم کیو ایم والوں نے مہاجر ہونے کا دعویٰ بعد میں کیا، ہم جو مہاجر نہیں تھے، پہلے پنجابی بنے اور سندھی بنے اور بلوچی بنے اور کشمیری بنے اور پوٹھوہاری بنے اور سرائیکی بنے اور براہوی بنے۔ جب کوئی بھی پاکستانی نہ رہا، تب وہ پاکستانی جو پنجابی تھے نہ بلوچی، پٹھان تھے نہ کشمیری، سندھی تھے نہ پوٹھوہاری نہ سرائیکی، مہاجر بنے اس لیے کہ اور کوئی آپشن ہی نہ تھا۔ یہ بات بھی یہ کالم نگار لکھ چکا ہے اور کہہ چکا ہے کہ الطاف حسین نے جب کراچی ویونیورسٹی میں آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس تنظیم کا ڈول ڈالا تھا، اُس وقت یونیورسٹی میں بلا مبالغہ بارہ سے زیادہ طلبہ تنظیمیں لسانی، نسلی اور علاقائی بنیادوں پر کام کر رہی تھیں اور رات دن کام کر رہی تھیں۔ مہاجروں کے بیٹے اور بیٹیاں کہاں جاتیں؟ سوچیے اور بتائیے، کہاں جاتیں؟
ہم میں سے جو لوگ ایم کیو ایم کو بالخصوص اور اردو بولنے والوں کو بالعموم طعنہ دیتے ہیں کہ ہجرت کیے تین نسلیں گزر چکیں، ابھی تک مہاجر کہلواتے ہیں۔ ان کی تاریخ دانی پر حیرت ہوتی ہے اور نوحہ خوانی کرنے کو دل چاہتا ہے۔ جی ایم سید نے سندھی ہونے کا اعلان ایم کیو ایم سے بہت پہلے کر دیا تھا۔ اکبر بگٹی نے چیخ کر کہا تھا…”بلوچستان بلوچیوں کا ہے۔ ہم دوسروں کو اجازت نہیں دیں گے کہ ہماری دولت چرا لے جائیں‘‘۔
پیپلز پارٹی کی دشمنی میں جنرل ضیاء الحق نے جی ایم سید کے نخرے اٹھائے۔ عبدالولی خان کا خانوادہ ساٹھ سالوں سے خالص نسلی اور لسانی بنیاد پر سیاست کر رہا ہے۔ کراچی آ کر بھی مردان ہائوس بنائے گئے۔ ایوب خان کے صاحبزادے نے اپنے ہم زبان لوگوں سے اردو بولنے والوں پر حملے کرائے اور فاطمہ جناح کو ووٹ دینے کی سزا دی۔ بھٹو نے الیکشن جیتنے والے کروڑوں پاکستانیوں کو اُن کا قانونی حق دینے سے صاف انکار کیا۔ اسمبلی کے اجلاس کی تاریخ کا اعلان کر کے غیر معینہ مدت کے لیے اس تاریخ کو منسوخ کر دیا گیا اور یوں بنگلہ دیش بنوایا گیا۔ پھر جب ٹیلنٹڈ(Talented) کزن نے صوبے میں سندھی زبان کا پرچم لہرایا۔ اُس وقت ایم کیو ایم کا وجود ہی نہ تھا۔ بلوچستان کی کون سی سیاسی جماعت ہے جو لسانی یا نسلی بنیادوں پر نہیں اٹھی؟ بلوچ نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری ثناء اللہ بلوچ نے ماتم کر کے کہا کہ ”1999ء کے بعد گوادر میں پنجابیوں کو جو زمینیں دی گئی ہیں اس سے بلوچ قومیت کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا ہے‘‘ کیا مہاجر ہونے کا اعلان اس سے بھی زیادہ زہریلا ہے؟ کیا گوادر پاکستان کا حصہ نہیں؟ کیا پنجابی اِس ملک کے شہری نہیں؟ کیا ہزاروں لاکھوں بلوچ پنجاب میں نہیں رہ رہے؟ پنجاب کے دور افتادہ گوشوں میں بھی دوسری زبانیں بولنے والے پاکستانی آباد ہیں اور مسلسل آباد ہو رہے ہیں۔ جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ کاروبار کر رہے ہیں؟
یہ ہے اِس ملک میں لسانی اور علاقائی بنیاد پر پھیلے ہوئے نیٹ ورک کی ایک ہلکی سی جھلک، جس سے مجبور ہو کر اور دیوار کے ساتھ لگائے جانے کے بعد اردو بولنے والوں نے ایم کیو ایم بنائی۔
المیہ یہ ہوا کہ ردِ عمل میں بنائی گئی یہ جماعت انتہا پسندی کا شکار ہو گئی۔ رد عمل ہمیشہ غیر منطقی ہو تا ہے۔ آپ کو کوئی گالی دے تو آپ جواب میں ماپ تول کر اُسی لمبائی چوڑائی اور اُسی وزن کی گالی نہیں دیں گے، آپ تھپڑ رسید کریں گے۔ یہی کام ایم کیو ایم نے کیا اور یہ وہ مہیب غلطی تھی جس نے اردو بولنے والوں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ ایم کیو ایم کی لیڈر شپ، ایم کیو ایم کے ورکر سے وفا نہ کر سکی۔ اس لیڈر شپ نے قربانی کی کھال اوڑھی، بھتے کی تھیلی ہاتھ میں پکڑی اور جہاز رانی کی وزارت اور دوسری وزارتوں سے ہوتی ہوئی، مڈل کلاس کو کوسوں پیچھے چھوڑتی، اپر کلاس کی راکا پوشی پر جا پہنچی۔ کنبوں کے کنبے ہیوسٹن، ڈلاس، لاس اینجلز اور دوسرے جگمگاتے شہروں میں بھیج دیئے گئے۔ لیڈر سیاست کراچی حیدر آباد، اسلام آباد اور لاہور میں کرتے اور اہل و عیال سے ملنے اوقیانوس پار جاتے۔ خود الطاف بھائی ترنم میں روتے روتے لندن مقیم ہو گئے۔ کبھی قرآنی آیات کی تلاوت سنائی، کبھی گانے گائے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا، ہم سب جانتے ہیں۔
الطاف بھائی روئیں یا ناچیں، اردو بولنے والے ووٹ انہی کو اور انہی کی پارٹی کو دیں گے۔ وہ سندھی کارڈ کھیلنے والوں کو اور زبانوں کی بنیاد پر ووٹ مانگنے والوں کو کبھی ووٹ نہیں دیں گے۔ غضب خدا کا۔ اس ملک میں سیاسی جماعتیں اس بنیاد پر بھی وجود میں آئی ہیں کہ نماز پڑھتے ہوئے ہاتھ سینے پر کون باندھتا ہے اور ناف پر کون باندھتا ہے اور کون ہے جو نہیں باندھتا! کچھ مذہبی جماعتوں نے اپنی دال کو علاقائیت میں بھی بگھار رکھا ہے۔
ایم کیو ایم کی تاریخ میں پہلی بار، اردو بولنے والوں کو ایک متبادل دکھائی دے رہا ہے۔ اگر مصطفی کمال نے چوہدری افتخار صاحب سے راہ و رسم بڑھانے کی غیر دانش مندانہ روش سے گریز کیا اور سرور خانوں اور اشرف سوہنوں سے بچتا رہا تو اس کی تنظیم ایک مضبوط متبادل کے طور پر ابھرے گی۔ یوں بھی وہ ایم کیو ایم اپنی طبعی عمر پوری کر چکی جو الطاف بھائی کی مٹھی میں بند تھی۔ ہاں! ایم کیو ایم کے ورکر موجود ہیں اور موجود رہیں گے۔
پس نوشت ایک۔ جو حضرات کان کے پاس آ کر سرگوشی میں بتا رہے ہیں کہ مصطفی کمال کو اسٹیبلشمنٹ نے کھڑا کیا ہے، وہ ازراہِ کرم یہ بھی بتا دیں کہ مصطفی کمال کا فیڈر کہاں ہے؟ مصطفی کمال کے کھلونے کہاں ہیں اور اس کے دودھ کے دانت کب نکلیں گے؟
پس نوشت دو۔ ”را‘‘ کے حوالے سے پوری ایم کیو ایم کو مطعون کرنا انصاف پسندی نہیں۔ سارے انڈے کبھی بھی گندے نہیں ہوتے۔ ایم کیو ایم کا عام ورکر اتنا ہی محب وطن ہے جتنے ہم سب ہیں۔

Tags: , ,